کبھی کبھی سوچتا ہوں کے اگر ہم مسلمانوں کی زندگی سے کافروں کو نکال دیا جائے تو ہمارا معاشرہ کیا منظر پیش کرے گا ؟ سواری کے لیے اونٹ خچچر اور گھوڑے استعمال کئیے جایا کریں گے، کیسا عجیب منظر ہوگا کمپنی کا ڈائیریکٹر خچچر پر سوار ہو کر آفس آیا کرے گا، مینجر حضرات اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہو کر آیا کریں گے ، ہم جسے تو پیدل ہی جایا کریں گے آفس ، کام کی نوعیت بھی بدل جائے گی، کمپیوٹر پر ای میل کے بجائے کبوتر کے پر سے خط لکھے جایا کریں گے، کورئیر کمپنیز جہاز کے بجائے کبوتروں کے ذریے لیڑرز بھیجا کریں گی، کچی مٹی کی عمارتیں ہونگی تو زیادہ بلند بھی نہیں ہونگی اسلیے لفٹ کے استعمال کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، بجلی ہی نہیں ہوگی تو تمام الیکٹرونکس آئیٹمز کی بھی ضرورت نہیں رہ جائے گی، گرمیوں میں ائیرکنڈیشنڈ اور ملّت فین کی جگھ ہمّت فین ہوا کرینگے جس کے ہاتھ میں جتنی طاقت اور ہمّت ہوگی وہ اتنی ہی زیادہ ہوا لیا کرے گا. چرخے سے کپڑا بنا جایا کرے گا ، ایک شپمنٹ گمان غالب ھے تقریبن تین سے چار سال میں یورپ پہنچ جایا کرے گی کتنی خوش حالی ہوجائے گی نہ ہر طرف، چپل سنگھا کر مرگی کا علاج ہوا کرے گا، کینسر اور دوسرے موزی امراض کے لیے ڈاکٹر بنگالی عامل سے جھاڑ پھونک کروائی جایا کرے گی، آپریشن کی تکلیف سے بھی نجات مل جائے گی ہمیں، جسے بھی موزی مرض لا حق ہوگا اسے جن بھوت کا سایا کہہ کر علاج کا خرچہ بچا لیا جایا کرے گا، آنکھوں میں موتیا نہیں پورا موتیا کا درخت اگ آیا کرے گا، موتیا کے معاملے میں ہم خود کفیل ہو جائیں گے ساری دنیا ہم سے مانگنے آیا کرے گی موتیا. جوانی میں حج کرنے کے لیے پچپن میں ہے خچچر پھ سوار ہو کر سفر پھ نکلنا ہوا کرے گا ، جوان بڑھاپے میں پہنچیں گے، اور بوڑھے حضرات کو تو سفر کے دوران ہی حج کی نیت کا ثواب مل جایا کرے گا، بغیر لاوڈ اسپیکر کے ملا حضرات مذہبی منافرت نہیں پھیلا پائیں گے، مولانا فضلل رحمان جو کے قوم کو دیکھانے کے لیئے کافروں کے خلاف ہیں اور غیرت پھر بھی نہیں آتی انہیں کے ان کے دل میں کافروں کی ہی ایجاد کردہ بیٹری لگی ہوئی ہے وہ بھی کافروں کا احسان لینے سے بچ جائیں گے، اور جلد اس دنیا سے رخصت ہو کر پوری پاکستانی قوم پر احسان عظیم کریں گے، کراچی والوں کو تو ہر روز حب ڈیم سے پانی بھر کے لانا پڑا کرے گا کیوں کے پانی سپلائی کرنے والی مشینیں ہی نہیں ہونگی، بار بار گھڑی دیکھ کر لوگوں کو انکی اوقات یاد دلانے سے بھی جان چھوٹ جائے گی قوم کی، سورج کی گردش سے ہی وقت کا اندازہ لگا لیا کریں گے، ایٹم بم کی جگھ ہمارے پاس منجنیق ھوتی انڈیا کے بم کے جواب میں ہم منجنیق سے پتھر برساتے جی تھری گن کی جگھ ہمارے فوجی جوانوں کے پاس تیر اور بھالے ھوتے اور ملا حضرات ہیمیں آج بھی یھ ہی تلقین کر رہے ھوتے ، مومن ھے تو بے تیغ بھی لٹرتا ھے سپاہی۔ پورے عرب کی زمین کے نیچے جو خزانے الله نے دیے ہیں جنھیں ہم تیل کہتے ہیں اسکی حیثیت بھی کیچڑ سے زیادہ نہیں ہوگی، پورا عرب دو ہزار دس میں بھی انیس سو پینسٹھ سے پہلے کا ہی منظر پیش کرے گا ، اگر کسی کو عرب کی ترقی دیکھنی ہو تو سعودیھ عرب کی انیس سو پینسٹھ سے پہلے کی تصویریں دیکھ لے سعودیھ عرب اور پورے عرب کی یھ بغیر پلر کی نام نہاد ترقی بھی کافروں کی ہی دین ہے، عرب کی زمین کے نیچے کیا کیا خزانے پوشیدہ ہیں یھ بھی انھیں کافروں نے ہی بتایا تھا. ورنہ ان کے لیے یہ تیل کیچڑ سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتا تھا. کبھی سوچیے گا کے کافروں کو ہماری زندگی سے نکال دیا جائے تو کیا بچے گا ؟ نہ یھ کمپیوٹر بچے گا نہ یھ بلاگ بچے گا اور نھ ہی قوم کو آگاہی دینے والا کوئی بچے گا.
Showing posts with label wildlife. Show all posts
Showing posts with label wildlife. Show all posts
Tuesday, 30 August 2011
حساب زیست کا بس اتنا سا گوشوارھ ھے۔ تمہیں نکال کے دیکھا باقی سب خسارھ ھے
کبھی کبھی سوچتا ہوں کے اگر ہم مسلمانوں کی زندگی سے کافروں کو نکال دیا جائے تو ہمارا معاشرہ کیا منظر پیش کرے گا ؟ سواری کے لیے اونٹ خچچر اور گھوڑے استعمال کئیے جایا کریں گے، کیسا عجیب منظر ہوگا کمپنی کا ڈائیریکٹر خچچر پر سوار ہو کر آفس آیا کرے گا، مینجر حضرات اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہو کر آیا کریں گے ، ہم جسے تو پیدل ہی جایا کریں گے آفس ، کام کی نوعیت بھی بدل جائے گی، کمپیوٹر پر ای میل کے بجائے کبوتر کے پر سے خط لکھے جایا کریں گے، کورئیر کمپنیز جہاز کے بجائے کبوتروں کے ذریے لیڑرز بھیجا کریں گی، کچی مٹی کی عمارتیں ہونگی تو زیادہ بلند بھی نہیں ہونگی اسلیے لفٹ کے استعمال کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، بجلی ہی نہیں ہوگی تو تمام الیکٹرونکس آئیٹمز کی بھی ضرورت نہیں رہ جائے گی، گرمیوں میں ائیرکنڈیشنڈ اور ملّت فین کی جگھ ہمّت فین ہوا کرینگے جس کے ہاتھ میں جتنی طاقت اور ہمّت ہوگی وہ اتنی ہی زیادہ ہوا لیا کرے گا. چرخے سے کپڑا بنا جایا کرے گا ، ایک شپمنٹ گمان غالب ھے تقریبن تین سے چار سال میں یورپ پہنچ جایا کرے گی کتنی خوش حالی ہوجائے گی نہ ہر طرف، چپل سنگھا کر مرگی کا علاج ہوا کرے گا، کینسر اور دوسرے موزی امراض کے لیے ڈاکٹر بنگالی عامل سے جھاڑ پھونک کروائی جایا کرے گی، آپریشن کی تکلیف سے بھی نجات مل جائے گی ہمیں، جسے بھی موزی مرض لا حق ہوگا اسے جن بھوت کا سایا کہہ کر علاج کا خرچہ بچا لیا جایا کرے گا، آنکھوں میں موتیا نہیں پورا موتیا کا درخت اگ آیا کرے گا، موتیا کے معاملے میں ہم خود کفیل ہو جائیں گے ساری دنیا ہم سے مانگنے آیا کرے گی موتیا. جوانی میں حج کرنے کے لیے پچپن میں ہے خچچر پھ سوار ہو کر سفر پھ نکلنا ہوا کرے گا ، جوان بڑھاپے میں پہنچیں گے، اور بوڑھے حضرات کو تو سفر کے دوران ہی حج کی نیت کا ثواب مل جایا کرے گا، بغیر لاوڈ اسپیکر کے ملا حضرات مذہبی منافرت نہیں پھیلا پائیں گے، مولانا فضلل رحمان جو کے قوم کو دیکھانے کے لیئے کافروں کے خلاف ہیں اور غیرت پھر بھی نہیں آتی انہیں کے ان کے دل میں کافروں کی ہی ایجاد کردہ بیٹری لگی ہوئی ہے وہ بھی کافروں کا احسان لینے سے بچ جائیں گے، اور جلد اس دنیا سے رخصت ہو کر پوری پاکستانی قوم پر احسان عظیم کریں گے، کراچی والوں کو تو ہر روز حب ڈیم سے پانی بھر کے لانا پڑا کرے گا کیوں کے پانی سپلائی کرنے والی مشینیں ہی نہیں ہونگی، بار بار گھڑی دیکھ کر لوگوں کو انکی اوقات یاد دلانے سے بھی جان چھوٹ جائے گی قوم کی، سورج کی گردش سے ہی وقت کا اندازہ لگا لیا کریں گے، ایٹم بم کی جگھ ہمارے پاس منجنیق ھوتی انڈیا کے بم کے جواب میں ہم منجنیق سے پتھر برساتے جی تھری گن کی جگھ ہمارے فوجی جوانوں کے پاس تیر اور بھالے ھوتے اور ملا حضرات ہیمیں آج بھی یھ ہی تلقین کر رہے ھوتے ، مومن ھے تو بے تیغ بھی لٹرتا ھے سپاہی۔ پورے عرب کی زمین کے نیچے جو خزانے الله نے دیے ہیں جنھیں ہم تیل کہتے ہیں اسکی حیثیت بھی کیچڑ سے زیادہ نہیں ہوگی، پورا عرب دو ہزار دس میں بھی انیس سو پینسٹھ سے پہلے کا ہی منظر پیش کرے گا ، اگر کسی کو عرب کی ترقی دیکھنی ہو تو سعودیھ عرب کی انیس سو پینسٹھ سے پہلے کی تصویریں دیکھ لے سعودیھ عرب اور پورے عرب کی یھ بغیر پلر کی نام نہاد ترقی بھی کافروں کی ہی دین ہے، عرب کی زمین کے نیچے کیا کیا خزانے پوشیدہ ہیں یھ بھی انھیں کافروں نے ہی بتایا تھا. ورنہ ان کے لیے یہ تیل کیچڑ سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتا تھا. کبھی سوچیے گا کے کافروں کو ہماری زندگی سے نکال دیا جائے تو کیا بچے گا ؟ نہ یھ کمپیوٹر بچے گا نہ یھ بلاگ بچے گا اور نھ ہی قوم کو آگاہی دینے والا کوئی بچے گا.
Labels:
eel,
evolution,
ex muslims,
islam,
radical,
religion,
terrorism,
urdu,
wildlife,
women in islam,
wonderful creations
Thursday, 18 August 2011
IBM unveils brain-like chip
IBM unveils brain-like chip
Computer chips with worm-like intelligence were unveiled today by researchers at IBM, a breakthrough, they say, on the road to creating computers that function like the human brain.
For now, achieving the goal of human-like intelligence in a computer with the size and power needs of our brains is a long ways off, Dharmendra Modha, the researcher leading the project, told me, but the chips he held as we spoke were proof that a "new generation" of computers are in the offing.
"It is IBM's first cognitive computer core that brings together computation in the form of neurons, memory in the form of synapses and communication in the form of axons," he said.
Such chips, he said, could form the basis of computers that are able to monitor real-time traffic-light cameras, notice an anomaly and dispatch an ambulance in time to save lives.
Other potential applications include lining the ocean with sensors for everything from temperature, humidity and wave height to acoustics and turbidity. The computer would constantly monitor all that data and detect patterns such as rogue waves that could interrupt shipping or a tsunami that could wipe out coastal villages.
A glove instrumented with sight, smell, temperature and other sensors and put on the hand of produce handlers at the grocery store could identify fruits and veggies that are contaminated, again saving lives.
The chips do this by integrating memory and processing, unlike today's computers, which separate the functions. It's a difference, he said, between growing food in one part of the world then eating it in another and a farmers market where you buy and eat locally grown food.
The silicon cores unveiled today aren't at the level of the human brain yet. They have 256 neuron-like nodes. One has what the company calls 262,144 programmable synapses, the other contains 65,536 synapses. They can drive a car through a simple maze and reconfigure a triangle from just a fragment, Modha said.
It can also play Pong, the 1970s arcade game. "It might beat you, I don't promise, but it might," Modha said.
The next step is to take these tiny brain-like circuits and weave them into a system that eventually has 10 billion neurons and 100 trillion synapses that consume just 1 kilowatt of power and occupy the same volume as a shoebox.
The technology, Modha added, is a departure from the way computers have evolved over the past 100 years and allowed the development of machines such as the question-answering maverick Watson that won a well-publicized game of "Jeopardy" earlier this year.
"Watson represents the epitome of artificial intelligence today, I would say," Modha said. "And we are trying to emulate the brain. They are yin and yang, salt and pepper, they may work together and complement each other, but they are not the same."
The project has keen interest from the U.S. government. As IBM unveiled the chips, they also announced $21 million in new funding from DARPA for the project, which is named SyNAPSE (Systems of Neuromorphic Adaptive Plastic Scalable Electronics).
The goal of the project is a system that not only analyzes complex information from multiple sensory modalities at once, but also dynamically rewires itself as it interacts with its environment — all while rivaling the human brain's compact size and low power usage.
We are still years away from such a computer, Modha said, and when it arrives it is likely to complement other computers and humans, not outsmart us or our machines.
"The human brain is so darn bloody awesome it shames me," he said. "The thing is, today's computers are so darn bloody bad in terms of power, space and functionality ... you pick a problem with so much room to play that you improve it slightly, you look like a hero."
Labels:
British council,
chips,
core 2duo,
evolution,
IBM,
living fossils,
nat geo,
new pecific,
news,
secular pakistan,
technology,
wildlife
حجاب کا نقطہ آغاز
عرب میں اسلام سے پہلے کے معاشرے میں ( جسکو جہالیہ کہا جاتا ہے ) مرد مکمل طور پر حاوی تھے اور عورتوں کی حیثیت معذور یا ناقص افراد کی سی تھے. مرد خواتین کو باقی اشیا کی طرح اپنی ملکیت تصور کرتے تھے. وہ انکو ناجائز طریقوں سے حاصل کر سکتے تھے ( خرید سکتے تھے )، استمال کر سکتے تھے، اور پھر اپنی مرضی کے مطابق کوڑا سمجھ کر بغیر کسی افسوس اور ندامت بے دردی سے پھینک سکتے تھے . خواتین کو لونڈیوں کے طور پر خریدا جا سکتا تھا جنکے کسی قسم کے کوئی حقوق نہ تھے. معاشرہ میں خواتین کے کھلے عام جنسی استحصال پر کوئی پکڑ یا روک ٹوک نہیں تھی. اسی طرح خواتین پر جسمانی تشدد، چاہے اسکی کوئی وجہ ہو یا نہ، بھی ایک معمول تھا. خواتین اپنی معاشرتی حالت کا دکھڑا لے کر کسی کے پاس نہیں جا سکتی تھے، کوئی انکی حالت بہتر بنانے والا نہ تھا، وو مکمل طور پر مردوں کے رحم و کرم پر تھیں.
جب عمر بن خطاب کو پتا چلا کہ انکی بہن نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ انکے گھر گئے اورانکو بڑی بےرحمی سے زود وکوب کیا. جب انکے شوہر نے انکو بچانے کی کوشش کی تو انہوں نے انکو بھی خوب مارا. اور یہی واقعہ انکی زندگی میں نیا موڑ ثابت ہوا کیونکہ انہو نے کچھ ہی عرصے بعد خود بھی اسلام قبول کر لیا، مگر اسکا مقصد اپنی بہن پر کئے گئے ظلم کا کفارہ ادا کرنا ہرگز نہ تھا. خواتین کی طرف انکا رویہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی زیادہ تبدیل نہ ہوا. انکے اسلام قبول کرنے کے بعد کا کم سے کم ایک واقعہ تاریخ نے ضرور رقم کیا جسکے مطابق انھوں نے اپنی بیوی کو زوردار طمانچہ مارا تھا.
اسلامی معاشرے میں پردے کا تصور مختلف معاشرتی حالت کے مدنظر پیدا ہوا مگر اس سلسلے میں کسی کسم کی اصلاح کی کوشش کو قبول نہیں کیا جاتا.
اس پس منظر میں، حضرت محمّد نے فاسق معاشرے کی اصلاح کی ٹھانی. اس زمانے میں جب لوگ کھلے عام بغیر کسی پکڑ اور ندامانی کے زیادتیاں کرنے کے عادی تھے، نبی کی مسلمانوں کو کی گیئں ہدایات کافی سخت اور شدید نوعیت کی سمجھی گیئں. وہ آزاد ہم بستری اور بے قابو شراب پینے کے عادی تھے، اسلام نے انکو چار بیویوں تک محدود کیا اور پھر شراب نوشی کو بھی ممنوعہ قرار دے دیا. طلاق، وراثت اورطلاق یافتہ بیویوں کی تلافی کے باقاعدہ اصول اور قوانین بتائے گئے. اسلام سے پہلے کے معاشرے میں، باپ کے مرنے کے بعد مرد جانشین کو جو وراثت ملتی، خواتین کو بھی اسکا حصہ سمجھا جاتا تھا. باپ کے مرنے کے بعد، عام طور پر سب سے بڑا بیٹا اپنی سوتیلی ماں سے شادی کرتا.
اسلام کی متعارف کردہ اصلاحات اس زمانے کے لحاظ سے انقلابانہ تھیں مگر اصلاح پسندی کا یہ عمل حضرت محمّد کے جانے کے بعد رک گیا. ان اصلاحات کی مزید ارتقا کو والیوں اور مذہبی جانشینوں نے یہ کہ کر رد کر دیا کہ قرانی حُکم اِمتناعی کے بعد اصلاح کی ضرورت باقی نہیں. قرآن خدائی فرمان ہے اور کسی کو اختیار نہیں کہ وہ اس میں تبدیلی لائے. قرانی احکامات کی تشریح کو بھی خوشی سے تسلیم نہیں کیا گیا اور نہ ہی عملی طور پر اسکو ٹھیک سمجھا جاتا ہے. اکثر اوقات تو قرانی احکامات پر شریعت کو فوقیت دی جاتی ہے. اس سے الجھنیں پیدا ہوتی ہیں کیونکہ شریعت کی بنیاد احادیث ہیں جنکے مستند ہونے پر شکوک و شبہات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اور ان پر سوال بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں.
تاہم، عرب میں سبھی عورتیں اتنی بدنصیب اور محروم نہیں تھیں. ایسی خواتین بھی موجود تھیں جنکے پاس مال دولت تھی، اپنا کاروبار تھا، جو اپنی زندگی اور اسکے معمولات میں خود مختار تھیں. پر ایسی خواتین بہت کم تھیں. حضرت محمّد کی پہلی بیوی، خدیجہ، جنھوں نے حضرت محمّد کو اپنا کاروبار سمبھالنے کیلئے ملازمت دے رکھی تھی، ان میں سے ایک تھیں. اشراف کی بیویوں کا معاشرتی رتبہ محض انکے شوہروں کی وجہ سے تھا.عموماً خواتین کی حالت کافی درد انگیز تھی.
پردے کی مسلم معاشرے میں آمد
نقاب کی مسلم معاشرے میں آمد دو مختلف مراحل میں ہوئی. عرب میں اسلام آنے کے بعد بھی یہ عام روایت تھی کہ لوگ کسی کے ہاں ملنے جلنے یا کسی کام سے کسی بھی وقت بن بلائے چلے جاتے تھے. وہ گھر کے مالک سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگنا تک گوارا نہ کرتے تھے. وہ بیٹھتے، گپیں لگاتے اور اس بات کا بالکل خیال نہ کرتے کہ وقت کسی کی گھر جانے کیلئے مناسب ہیں بھی یا نہیں، انکو وہاں بلایا بھی گیا ہے یا نہیں یا کہ کتنا وقت وہاں گزرنا چاہیے. یہ ایک روایت بن گئی تھی اور یہ حالات اکثر میزبان کے لئے مسلہ بن جاتے.
جب حضرت محمّد نے زینب بنت جحش سے شادی کی تو انھوں نے تمام مسلمانوں کو اپنے گھر شادی کی دعوت پر بلایا. ان کے خِدمت گار انس ابن ملک اس قصے کو یوں بیان کرتے ہیں:
نبی کی زینب بنت جحش سے شادی ہو چکی تھی. مجھے زمیداری دی گی کہ میں لوگوں کو شادی کے کھانے کی دعوت دوں. میں نے ایسا ہے کیا. بہت سے لوگ آئے. وہ ایک کے بعد ایک گروہ کی شکل میں آئے. وہ کھانا کھاتے اور چلے جاتے. ایک وقت آیا جب نبی نے کہا: دعوت ختم کر دو. زینب کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی تھیں. وہ بہت خوبصورت عورت تھیں. 3 افراد کے علاوہ باقی سب چلے گئے مگر وہ بلا جھجھک تغافُل شِعار سے بیٹھے رہے اور گپیں لگاتے رہے. ناراض اور پریشان ہو کر نبی کمرے سے اٹھ کر چلے گئے. وہ عائشہ کے حجرے میں گئے… انہوں کے اپنی بیویوں کے حجروں کا دورہ کا چکر لگایا…. آخر کار وہ زینب کے کمرے میں واپس آئے اور دیکھا کہ وہ تین مہمان ابھی تک نہیں گئے. نبی نہایت شائستہ اور نرم مزاج انسان تھے. وو پھر کمرے سے نکل کر عائشہ کے حجرے میں چلے گئے. مجھے یہ یاد نہیں کے میں یا کوئی اور تھا جو نبی کو یہ بتانے گیا کہ وہ تین افراد آخرکار رخصت لے چکے.خیر، وہ عروسی حجرے میں واپس آئے. انھوں نے ایک قدم کمرے کے اندر رکھا اور دوسرا باہر. انھوں نے اس حالت میں اپنے اور میرے درمیان پردہ گرا دیا اور حجاب کی آیات اس مرحلے پر نازل ہوئی. (1)
اوپر حوالہ دی گئی آیت قرآن کی سورہ احزاب کی آیت نمبر 53 ہے:
مومنو پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھاچکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو۔ یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے۔ اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کہتے نہیں ہیں) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اور جب پیغمبروں کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر مانگو۔ یہ تمہارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔ اور تم کو یہ شایاں نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو۔ بےشک یہ خدا کے نزدیک بڑا (گناہ کا کام) ہے.
ملاقاتیوں اور نبی کی بیویوں کے درمیان پردے کی ہدایت تمام مسلم بیویوں کے لئے ایک عام عمل بن گیا. اس آیات کا آخری حصہ اس قصے سے کٹا ہوا لگتا ہے مگر اسکو اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو بہتر سمجھ آتی ہے. عرب اس زمانے میں اپنے روز مرہ کے معمول میں کافی بے لاگ اور غل مچانے والے تھے. کچھ نامعقول تو سرے عام یہ اعلان کرتے پھرتے تھے کہ وہ نبی کی بیواؤں سے جلد شادی کریں گے. آیت کا آخری حصہ نبی کی بیویوں کا باقی مسلمانوں سے تعلق کے لحاظ سے معاشرتی حالت پر روشنی ڈالتا ہے. بعد میں نبی کی بیویوں کو امہات المومنین کہ کر پکارا گیا تاکہ شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے.
مسلم معاشرے میں نقاب کی آمد کا دوسرا حصہ
مسلم معاشرے میں نقاب کی آمد کا دوسرا حصہ، جسکو آج کل حجاب کہا جاتا ہے، مدینہ میں موجود کچھ ضدی نوعمر خطار کار مردوں سے جڑا ہے. فاطمہ مرنیسی کے مطابق:
خواتین، چاہے انکا رتبہ کچھ بھی ہوتا، کو گلیوں میں ہراساں اور زچ کیا جاتا تھا. یہ مرد انکا تعقب کرتے اور ‘تارود’ جیسی ذلت آمیز حرکت سے انکو محکوم کرنے کی کوشش کرتے. وہ عورتوں کے راستے میں آ کر کھڑے ہو جاتے اور زبردستی ان سے زنا کرنے کا کہتے. اس وقت پر نبی کے پاس مکمل - بِلا حُجَت - حاکمیت نہیں تھی لہٰذا انکے لئے مسلہ عورتوں کو قبل اسلام تشدد سے چھٹکارا دلانا نہیں تھا بلکہ اپنی بیویوں اور شہر میں دیگر مسلمانوں کی بیویوں کی حفاظت کو ایک ایسے شہر میں یقینی بنانا تھا جو بداندیش، شدت پسند اور بے قابو تھا. (2)
جب نبی نے قاصدوں کو بھیج کر ان وباش مردوں سے پوچھا کہ وہ عورتوں کو ایسے کیوں ستاتے ہیں تو انہو نے جواب دیا: “ ہم صرف ان خواتین سے تارود کرتے ہیں جنکو ہم لونڈی سمجھتے ہیں.” (2) لہٰذا انہوں نے عورتوں کی شناخت کو بہانہ بنا کر اپنی جان چھڑا لی.
ان حالات میں، خدا نے سوره احزاب کی آیت نمبر 59 نازل کی تاکہ مسلم خواتین کی شناخت میں کوئی مسلہ نہ ہو. آیت کے الفاظ یہ ہیں:
اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے پر چادر لٹکا لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے.
مسلم خواتین پردے کے لئے جو لباس استمال کرتیں، اسکو جلباب کہا گیا. آج کی مسلم خواتین جو حجاب استمال کرتی ہیں، وہ جلباب سے تو مختلف ہے مگر اسکا مقصد وہی ہے جیسے کہ اوپر بیان کیا گیا. مسلم خواتین کے گھر سے باہر معاشرتی رویوں، چال ڈھال اور لباس سے متعلق مزید تفصیل سوره نور کی آیت نمبر 31 میں بیان کی گئی:
اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ
فتح مکّہ کے بعد مسلمان عرب کے عملی طور پر مکمل حاکم بن گئے اور مدینہ کے معاشرتی حالات بھی خواتین کے لئے دھمکی آمیز نہ رہے مگر چونکہ حجاب کا حکم باقاعدہ طور پر قرآن میں آیا تھا لہٰذا واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا اور ناقابِلِ تَنسيخ طَور پَر مسلم دنیا میں موجود رہا. اس پر تبصرہ کرتے ہے فاطمہ مرسینی لکھتی ہیں:
خواتین کے لئے اس شہر میں زندگی دوبارہ کبھی محفوظ نہ ہو سکی. اگر وقت کا دھارا موڑنا ممکن ہوتا تو شائد مدینہ کی حیثیت خواتین کے لئے ایک ظالم شہر کی سی نہ ہوتی مگرافسوس یہ صرف فسانہ ہی ہو سکتا ہے. تب سے یہ خواتین کا مقدار ٹھہرا ہے کہ غیر محفوظ شہروں کی گلیوں میں انھیں نہایت احتیاط سے کالے جلباب میں ملبوس گھومنا پڑتا ہے. پردہ، جسکا اصل مقصد انکی حفاظت کرنا تھا، ایک ایسی ضروری روایت بن گیا ہے جو کہ انکے ساتھ کئی صدیوں تک رہے گی، چاہے حالت محفوظ ہوں یا نہیں. (3)
مغربی دنیا میں حجاب
فاطمہ مرسینی جیسی بہت کم لکھاری ہیں جو کہ مسلم خواتین کو یہ شعور دیتی ہیں کہ انکو اپنے حقوق کے لئے لڑنا چاہیے
گزشتہ کچھ صدیوں سے عرب ممالک میں حجاب مسلم خواتین کے روز مرہ لباس کا حصہ بن گیا ہے.اسکو خواتین کے استحصال کا اصولی اوزار بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کچھ خواتین اسکو باقائدگی سے اور اپنی مرضی سے پہنتی ہیں. اگر یہ اجیرن، نہ مناسب یا ذلت آمیز ہوتا تو خاص طور پر مغربی ممالک میں بہت سی مسلم خواتین اسکو اتار پھینکتی اور وہیں اسکا
خاتمہ ہو جاتا. مسلمان مردوں نے ارادتاً ہمیشہ سے اپنی خواتین کو ثانوی اور کم درجے کی
خاتمہ ہو جاتا. مسلمان مردوں نے ارادتاً ہمیشہ سے اپنی خواتین کو ثانوی اور کم درجے کی
حیثیت میں رکھا ہے. یہ نقطہ مغربی دنیا کے حوالے سے کافی غیر اہم ہے چونکہ وہاں آباد کاروں نے خود ہی آباد ہونے اور اپنے خاندان بسانے کا فیصلہ کیا.
مسلم ثقافت اور اقتدار کے ڈھانچے میں کم سے کم تصوری طور پر طاقت کے دو سر چشمے ہیں : خلیفہ جو کہ سیاسی طاقت اور اقتدار پر غالب ہوتا ہے اور امام جو کہ مذھبی اور روحانی پیشوا ہوتا ہے. فاطمہ مرسینی کے مطابق :
قرآن کے نزول کی زبان عربی کے یہ دونوں الفاظ، خلیفہ اور امام، جو کہ طاقت اور اقتدار کے تصور کو خود میں سموئے ہوے ہیں کی کوئی زنانہ شکل نہیں ہے. لسان العرب لغت واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ خلیفہ کا لفظ صرف مردانہ طور پر - یا مرد کے لئے ہی – استمال ہو سکتا ہے. (4)
لہذا ایک خاتون کا کسی مسلم ریاست کا سربراہ بننے کا مسلہ بحث پکڑتا ہے. ضیاء الحق کر مرنے کے بعد جب بینظیر بھٹو پاکستان کی سربراہ بنیں تو یہ بحث کھل کر سامنے آئی اور اس پر بحس و مباحثے ہونے لگے. مسلم دنیا میں بہت کم مسلمان خاتون لیڈر اور دانشور ہوں گی جو کہ خواتین کے حقوق اور جنسوں کی برابری کے لئے جدوجہد کریں. اسی طرح، فاطمہ مرسینی جیسی بہت کم لکھاری ہیں جو کہ مسلم خواتین کو یہ شعور دیتی ہیں کہ انکو اپنے حقوق کے لئے لڑنا چاہیے.
مغربی دنیا میں حجاب محض عرب یا اسلامی ثقافت کی ایک علامت بن کر رہ جاتا ہے جسکو پہننے والا اسے بچا کر رکھنا چاہتا ہے. یہ بلکل اس شناختی علامت کی طرح ہے جسکو مدینہ کی عورتوں نے اوباش مردوں کے ہاتھوں ہراساں ہونے سے بچنے کے لئے استمال کرنا شروع کیا. بد قسمتی سے بہت سے مغربی ممالک میں جو کہ مسلم ثقافت کے بارے میں وسوسوں کا شکار ہیں، وہاں یہ ایک سیاسی مسلہ بن گیا ہے . اس مخالفت کے رد عمل کے طور پر، بہت سی مسلم خواتین جو کہ عرب نہیں ہیں، انہوں نے بھی حجاب پہننا شروع کر دیا ہے تاکہ وہ اپنی مسلم شناخت کو جتا سکیں. ایک کثیر ثقافتی معاشرہ منفرد اور مختلف معاشرہ ہوتا ہے مگر اسکا مطلب بالضروریہ نہیں ہوتا کہ اسکو باضابطہ بنانے کی ضرورت نہیں. مگر یہ ضرور ہے کہ یہ ضابطےمعتدل اور متحمل ہونے چاہییں اور کوشش یہ ہونی چاہیے کہ منفرد ثقافتی اظہار کو کوئی ٹھیس نہ پہنچے.مغربی دنیا میں حجاب اور جلباب پر بحث تب تک جاری رہے گی جب تک آباد کاروں پر مکمل اعتماد نہیں کر لیا جاتا اور انکی طرف حقارت کے جذبات کو ہمیشہ کے لئے دفن نہیں کر دیا جاتا
Labels:
hijab,
islam,
veil,
wildlife,
women in islam,
women in pakista
Wednesday, 17 August 2011
Tiger to sperm whale: Ten of the most extraordinary animals by Chris Packham
Tiger to sperm whale: Ten of the most extraordinary animals by Chris Packham
the wildlife expert chooses ten incredible animals
1. TIGER
On land, the tiger is probably the nearest thing to the ultimate killing machine. There's an assassin-like quality to their eyes and when you 'meet' one, you know he or she is thinking, 'If I could, I would eat you'
2. PANGOLIN
An amazing animal that is covered-with fingernail-like scales, has a keen sense of smell and can roll itself into a ball like a hedgehog. There are eight species in all, and the giant pangolin, the largest, grows to about 5ft 6in long. Pangolins are found in sub-Saharan Africa and large parts of Asia, and feed on ants. They're also nocturnal, so you're only likely to see one by chance. They're hunted in parts of Africa, and are also in demand in China, where their meat is considered a delicacy. Various healing properties are, rightly or wrongly, attributed to their scales. They're declining in numbers in many places, partly due to deforestation and the growing number of electric fences being erected in their traditional African habitat - when they hit a wire, they don't jump clear but tend to roll into a ball and are often electrocuted.3. ANDEAN CONDOR
With a wingspan of over 10ft, the Andean condor is a bird out of time. An ancient, large black vulture, it evolved to take advantage of a period in history when there were large herds of animals roaming the Americas, the last of which was the bison. It's hung on in South America, but with the disappearance of such herds its numbers are probably in terminal decline. I don't necessarily regard its impending extinction as a bad thing - most of the animals which were around with them millions of years ago have long gone. In a way, it's like a dinosaur bird.The sperm whale (left) can tip their tails and dive down to depths of perhaps over a mile, where the pressure is just extraordinary. A sort of living fossil, the coelacanth (right) has been around for some 400 million years
4. SPERM WHALE
A huge, highly intelligent marine mammal. It's difficult for us to imagine the sperm whale's world - and I'm not sure we'll ever fully understand it. They can tip their tails and dive down to depths of perhaps over a mile, where the pressure is just extraordinary, and stay submerged for up to 90 minutes. It's a pretty hostile environment down there: it's cold, pitch-black and so far beyond our understanding that it might as well be in deep space. What's more, they're active at the bottom of their dives, hunting squid and using their jaws to scoop up crabs and other crustaceans on the ocean floor. We know that sperm whales, which can live for around 80 years, have a 'voice' and can recognise each other as individuals. Indeed, it seems likely that they have a sort of 'group intelligence' which works on an entirely different level to ours. That said, there's a huge amount we don't know about the mammal, which can grow up to 65ft long. The great paradox is that we've come close to exterminating this amazing animal that was once so abundant in our oceans.5. COELACANTH
A fish thought to have disappeared about 65 million years ago - until 1938, when one was caught off the coast of South Africa. A sort of living fossil, the coelacanth has been around for some 400 million years. Recently we've found out a bit more about them, and even managed to photograph them in their natural habitat. Their front fins are very much like legs, which they use to almost walk across the sea. Predatory fish, they're highly manoeuvrable and grow to over 6ft in length. They live deep in African and Indonesian waters, and have survived because their habitat has remained largely unchanged over their long existence.6. KOMODO DRAGON
A large, lethal lizard, the komodo dragon can run quite quickly, and there are stories of them catching and eating humans
7. COCKROACH
The cockroach has been around for 300 million years. They can go for three months without food and a month without water, and taste their food before they eat it, so it's hard to poison them
8. CUCKOO
We've been 'ringing' cuckoos for years - we've put around 6,000 rings on them in an attempt to chart their movements - yet we've had very few recoveries, apart from one found in midwinter in Cameroon
9. HELLBENDER
A relatively ancient animal, the hellbender dates back around 65 million years and is found only in eastern North America, having adapted to fill a specific niche within its environment
Hugely successful creatures, jellyfish have been roaming the seas for hundreds of millions of years
10. JELLYFISH
This is pure alien, in a way. There are about 2,000 species of jellyfish, and they can grow to a huge size and be extraordinarily dangerous. One of the most toxic animals on Earth is the box jellyfish, which lives primarily in the waters of the Indo-Pacific. If you get stung by one, it can be fatal - victims have died in the water. Hugely successful creatures, which have been roaming the seas for hundreds of millions of years, jellyfish are found in all the world's oceans - and in fresh water too. I've been lucky enough to dive with them and see them up close, and when you do, it's a bit like witnessing living art. I just love looking at them - they're exquisitely beautiful, and there's something quite therapeutic about watching the way they move - and while they might appear to be fragile, with their soft bodies and lack of a brain or spine, they're not. As a body form you can't really imagine anything more different to us humans - and while they may inhabit our world, they might as well come from the Planet Zorg.
Labels:
creatures,
discovery,
living fossils,
nat geo,
wildlife,
women in islam,
wonderful creations
Subscribe to:
Posts (Atom)